سیاسی اور صحافتی بونے اور قد بڑھانے کی کوششوں کا حشر
جب سے ایم کیو ایم وجود میں آئی ہے اور قائد تحریک جناب الطاف حسین کو اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے عزت و توقیر عطا فرمائی ہے اس وقت سے ہی بونے سیاستدانوں اور خود ساختہ لیڈروں کو اپنا قد بلند کرنے کیلئے ایک نیا طریقہ ہاتھ آ گیا ہے۔ جسے بھی اپنے آپ کو لیڈر بنانا یا اپنے پست قد کو بلند کرنا ہوتا ہے وہ قائد تحریک کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا اور ان کی ذات پر حملے شروع کردیتا ہے۔ یہ ایسی آزمودہ ترکیب ہے کہ فوری طور پر کام کرتی ہے اور ایم کیو ایم کے ازلی دشمن ٹی وی چینل اور اخبارات اسے اک دم سے زمین سے اٹھا کر آسمان پر بٹھا دیتے ہیں۔ آج پھر ایک ایسے ہی شخص نے جسے دو کوڑی کا کہنا بھی کوڑی کی یا دو ٹکے کا کہنا ٹکے کی توہین ہوگی قائد پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی تاکہ اسے بھی ایک سیاستدان اور لیڈر کا درجہ حاصل ہو سکے اور اسےبھی لوگ جاننے لگیں کہ یہ بھی کوئی سیاستداں یا رہنما ہوتے ہیں۔ حسب معمول تعصبی میڈیا نے اسے اس کی اوقات سے کہیں بڑھ کربھرپور کوریج دی۔ کسی نے یہ نہ دیکھا کہ اسکی کیا اوقات ہے اور جس کے متعلق یہ بات کررہا ہے وہ کتنی بڑی شخصیت ہے۔
جب سے ایم کیو ایم وجود میں آئی ہے اور قائد تحریک جناب الطاف حسین کو اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے عزت و توقیر عطا فرمائی ہے اس وقت سے ہی بونے سیاستدانوں اور خود ساختہ لیڈروں کو اپنا قد بلند کرنے کیلئے ایک نیا طریقہ ہاتھ آ گیا ہے۔ جسے بھی اپنے آپ کو لیڈر بنانا یا اپنے پست قد کو بلند کرنا ہوتا ہے وہ قائد تحریک کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا اور ان کی ذات پر حملے شروع کردیتا ہے۔ یہ ایسی آزمودہ ترکیب ہے کہ فوری طور پر کام کرتی ہے اور ایم کیو ایم کے ازلی دشمن ٹی وی چینل اور اخبارات اسے اک دم سے زمین سے اٹھا کر آسمان پر بٹھا دیتے ہیں۔ آج پھر ایک ایسے ہی شخص نے جسے دو کوڑی کا کہنا بھی کوڑی کی یا دو ٹکے کا کہنا ٹکے کی توہین ہوگی قائد پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی تاکہ اسے بھی ایک سیاستدان اور لیڈر کا درجہ حاصل ہو سکے اور اسےبھی لوگ جاننے لگیں کہ یہ بھی کوئی سیاستداں یا رہنما ہوتے ہیں۔ حسب معمول تعصبی میڈیا نے اسے اس کی اوقات سے کہیں بڑھ کربھرپور کوریج دی۔ کسی نے یہ نہ دیکھا کہ اسکی کیا اوقات ہے اور جس کے متعلق یہ بات کررہا ہے وہ کتنی بڑی شخصیت ہے۔
تاہم ایسے لوگ ایسی کوئی بھی کوشش کرنے سے پہلے تاریخ کا
بھی مطالعہ کر لیا کریں تو ان کیلئے بہتر ہوگا۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو انہیں پتہ
چل جائے گا کہ آج تک جن لوگوں نے بھی قائد کے خلاف اپنی ناپاک زبان کو جنبش دی اور
اس طرح لیڈربننے کی کوشش کی وہ لیڈر تو نہ بن سکے البتہ تاریخ کی گرد میں ایسے گم ہوئے کہ آج شائد چند لوگ ہی ان کا
نام جانتے ہوں۔ در حقیقت یہ حرکت ان کو لیڈر تو نہ بنا سکی لیکن ان کے لئے سیاسی
موت کا سبب ضرور بن گئی۔ حالیہ تاریخ میں ذوالفقار مرزا کی مثال موجود ہے جو آج
نمونۂ عبرت بنا ہوا ہے لیکن جو لوگ اےپی ایم ایس او یا ایم کیو ایم کے ابتدائی
زمانوں سے حالات کو دیکھتے چلے آرہے ہیں انہیں شائد امیر حیدر کاظمی بھی یاد ہوگا،
انہیں نصیراللہ بابر اور جنرل آصف نواز بھی نہیں بھولا ہوگا اور انہیں شائد غلام
سرور اعوان بھی یاد آجائے جو قائد کے خلاف اپنی گندی زبان استعمال کرکے راتوں رات
لیڈر بن گیا لیکن اسکے بعد ذلت، رسوائی اورگمنامی کے اندھیروں میں گم ہوگیا۔ امیر
حیدر کاظمی کچھ عرصہ پہلے انتقال کرگیا لیکن اسکے مرنے کی خبر کو ایک کالم کی جگہ بمشکل میسر
آئی۔ ایسے ہی جوالطاف حسین کا باب بند کرنے کے دعوے کیا کرتا تھا وہ بھی قبر میں
جا سویا اور جو کراچی فتح کرنے کے دعوے
کرتا تھا انتہائی کسمپرسی کے عالم میں دنیا سے رخصت ہوگیا۔ایک وہ بھی ہے جو الطاف
حسین کی شخصیت سے جلا پاکر کچھ بن گیا تو اپنے تیئں نہ جانے کیا سمجھنے لگا اور
پھر فوج کی گود میں بیٹھ کر کراچی پر راج کرنے کی تمنا میں اپنی عزت و آبرو گنوانے کے بعدآج شہر کے ایک
کونے میں سمٹا بیٹھا ہے اور بمشکل بیانات پر زندہ رہنے کی کوشش کررہا ہے ۔
یہ تو وہ لوگ تھے جو لیڈر بننے کی آس میں چاند پر تھوک تھوک
کر اپنے ہی منہ کو گندا کررہے تھے لیکن ایک اور طبقہ بھی ہے جو اپنے آپ کومشہور
کرنے کیلئے یہی حربہ استعمال کرتا ہے اور وہ ٹی وی اینکرز اور کالم نگار اور تجزیہ
کاروں کا طبقہ ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ بھی
قدرت نے یہی کیا۔ یہ لوگ جو سمجھتے تھے کہ الطاف حسین پر تنقید کرکے، انکے خلاف
ناپاک پراپیگنڈہ کرکے اور ان پر غلیظ الزامات لگا کراپنا قد اونچا کرلیں گےبھول
گئے کہ جسے اللہ عزت دے اسے کوئی بے عزت نہیں کر سکتا اورایسی کوشش کرنے والا خود ہی بدنام اور رسوا ہوکرنمونۂ
عبرت بن جاتا ہے۔
آج پھر ایک سیاسی بونا اپنے قد سے بڑھ کر بات کررہا تھا اور
اسکے بعد بڑی رقموں کے عوض ٹی وی چینل پر بیٹھ کراپنے ہی مستقبل کو تاریک کررہا
تھا۔ اور ایسا ہی ایک ٹی وی اینکر نہ جانے کن عنایات کے عوض اسے اپنے پروگرام میں
بٹھا کر الطاف حسین کے خلاف بات کرواکے اپنے پستہ قد کو بلند کرنے کی کوشش کررہا
تھا۔ یہ اینکرجو ایم کیو ایم کے تو ایک
ایک حرف پر جرح کرتا ہے لیکن اس سیاسی بونے کی اس بات پر کہ الطاف حسین عدالت سے
مفرور ہیں اس لئے انہیں پیمرا کے رولز کے
مطابق ٹی وی پر بات کرنے کی اجازت نہ دی جائے، یہ سوال نہ کرسکا کہ عمران خان
عدالت سے نہ صرف مفرور ہے بلکہ عدالت سے مقدمہ ہار بھی چکا ہے تو اس کو بھی پارلیمنٹ
کا ممبر بننے سے کیوں نہ روک دیا جائے اور ایک سزا یافتہ مجرم کوکسی بھی ٹی وی
چینل پر بات کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔اس کو نہ تو آرٹیکل 62 اور 63 یاد آئے نہ
پیمرا کے رولز اور اسمبلی کی رکنیت کی شرائط یاد آیئں جو عمران خان کو نا اہل قرار دیتی ہیں۔
بہر حال! ہم بھی دیکھ رہے ہیں، عوام بھی دیکھ رہے ہیں، قائد کے متوالے بھی
دیکھ رہے ہیں اور قدرت تو ان کے ایک ایک عمل کا حساب رکھ رہی ہے۔ 23 اپریل انشاءاللہ
ان پستہ قد سیاسی بونوں کے احتساب کا اور جو کچھ انہوں نے کیا اور کررہے ہیں اسکے
بدلے کا دن ہوگا۔